لعنت ہے ایسے بد خواہوں پر

تحریر – شاہد رضوی

میر کاظم علی سے میری دوستی کچھ زیادہ پرانی نہیں ہے لیکن ہم دونوں کے خلوص اور محبت کا یہ عالم ہے کہ میر صاحب ہمیشہ شام کا کھانا میرے ساتھ کھاتے ہیں اور کافی کی دو پیالیاں پینے کے بعد رات کو گیارہ بجے سے پہلے رخصت نہیں ہوتے ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ بھائی آپ کے ہوتے ہوئے میں اپنی ضرورت کسی اور سے کیوں کہوں اور اس اپنائیت کے صدقے میں میرے گھر کی بیشتر اشیا رخت سفر باندھے ہوئے تیار رہتی ہیں کہ کب ان کے گھر سے بلاوا آتا ہے

میری ان سے ملاقات کے وقت بھی میر کاظم علی نے جو والہانہ انداز اختیار کیا تھا مجھے اب تک یاد ہے یاد رہنے کے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب تک میری پسلیوں میں تکلیف باقی ہے ہوا یوں تھا کہ میرے برابر والا فلیٹ خالی ہو گیا اور میں نے دل ہی دل میں یہ دعا کر رہا تھا کہ خدا کرے کہ کوئی ہنس مکھ بھلا مانس اس میں آئے یہ دعا کچھ زیادہ ہی قبول ہو گئی کیونکہ اس دن دوپہر کے قریب جب میں زینے سے اتر رہا تھا تب تاریخ کا یہ عظیم حادثہ پیش آیا میں دو یا تین سیڑھیاں اترا تھا کہ خدا جانے کیا ہوا سارا منظر بدل گیا اور ایکا ایکی میں نے سیڑھی پر خود کو اس طرح بیٹھا پایا کہ ایک آٹھ مربع فٹ کا بورڈ میرے سینے اور گھٹنے پر ٹکا ہوا تھا اور اسے لٹکانے والی رسی میرے گلے میں پڑی تھی اور آنکھوں کے آگے تارے ناچ رہے تھے اور پسلیوں میں ٹیسیں اٹھ رہی تھیں اور ایک عظیم الحبثہ شخصیت نیچے کی سیڑھی پر اس طرح لپٹی ہوئی تھی جیسے سیتہ گرۂ کرنے والے احتجاجا” راستہ روکنے کے لیے سڑک پر لیٹ جاتے تھے اس عظیم الحبثہ پر داڑھی مونچھوں سے بے نیاز چہرہ انتہائی معصومیت سے بتیسی نکالے ہوئے مجھے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے میں مولی کا نمک یا کھٹمل مارپڑیاں بیچ رہا ہوں ابھی میں حواس درست کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور کاظم علی سیڑھی سے اٹھنے کی کہ معلوم ہوا کہ جیسے کسی اسکول کی چھٹی ہو گئی ہو اور سارے بچے اسی طرف آرہے ہوں اور ایکا ایکی پندرہ سولہ بچے پہلے زینے کے موڑ پر نظر آئے اور اس سے پہلے کہ کچھ سوچا یا سمجھا جا سکتا سب بچے کاظم علی کی پھولتی پچکتی توند پر پیر رکھ کے گذر گئے اور کاظم علی غصے کے زیادتی سے منہ کھول کھول کر رہ گئے- ہوتا یہ تھا کہ جب وہ کچھ کہنا چاہتے تھے تو آنے والے کسی بچے کا پیر ان کی توند پر پڑتا اور ان کی آواز حلق میں گھٹ جاتی- اس سے پہلے کہ آواز برآمد ہو دوسرا بچہ ان کے پیٹ پہ پیر رکھتا ہوا اوپر کی سیڑھی پر پہنچ جاتا بچوں کی فوج ظفر موج کے عین پیچھے ان کی کمانڈر بڑبڑاتے ہوئے نمودار ہوئیں اور کہ ‘زینے ہیں کہ شیطان کی آنت میری تو سانس پھول گئی وغیرہ اور یقینا ان کی سانس پھول گئی تھی کیونکہ حجم کمیت، رقبہ اور جغرافیہ میں وہ کاظم علی سے تقریبا دگنی تھیں جس لمحہ میں کاظم علی نے اٹھنے کی کوشش کی اسے لمحے میں خاتون بلکہ خواتین بہ صغیہ واحد سستانے کے لیے دھب سے کاظم علی کی توند پر بیٹھ گئیں کاظم علی کی ہمت کو داد دیتا ہوں کہ بجاۓ وفات پانے کے، ایک فلک شگاف چیخ بلند کی اور وہ خاتون ہائے اللہ کہہ کے ایک دم اچھلیں – بیہوش ہوہیں اور پھر کاظم علی پر ڈھیر ہو گئیں گرتے گرتے ان کا ایک ہاتھ اس بورڈ پر پڑا جو میرے گلے میں بطور اشتہار لٹکا ہوا تھا مجھے آج تک حیرت ہے کہ بورڈ کے اس جھٹکے کو میں کیسے برداشت کر گیا جس کا ارتعاش میرے ٹھوڑی میں آج تک موجود ہے شاید ہم تینوں اسی کیفیت میں منجمد ہو جاتے اگر دو تین حضرات آکر سہارا نہ دیتے یہ الگ داستان ہے کہ کس طرح بغیر کرین کی مدد کے ان دونوں خواتین و حضرات کو اٹھایا گیا اور کس طرح سے گلے سے بورڈ اتار کے میں پسلیوں کو سنبھالے گھر پہنچ سکا- زندہ سلامت گھر پہنچ جانے کے باوجود میرے پڑوسیوں نے خبر اڑا دی کہ میں وفات پا گیا ہوں لعنت ہے ایسے بد خواہوں پر

پسلیوں کا درد تو گھنٹہ دو گھنٹہ میں کم ہو گیا لیکن آنکھوں کے آگے لال پیلے نیلے دھبے اور ستارے شام تک رقص کرتے رہے اسی حالت میں شام کو اطلاع ملی کہ میرے نئے پڑوسی عیادت کو آئے ہیں میں آفت زدہ عیادت کو بھی تیار نہ تھا بیوی کی خوشامد کررہا تھا کہ کہہ دو کہ بيہوش ہیں اور وہ نیکبخت کہہ بھی دیتی کہ میر کاظم علی ایک دھماکہ کے ساتھ کمرے میں وارد ہو گئے بہ تحقیق آج تک نہ ہو سکی کہ دھماکہ دروازہ ٹوٹنے کا تھا یا فرش میں (جو نیچے والوں کی چھت ہے کوئی لوہا کا سریا ٹوٹ گیا تھا) میر صاحب نے اندر آتے ہی پہلے تو پرزور الفاظ میں معذرت کی اور پھر ہنستے ہوئے بولے “خدا کی قسم بھائی اس وقت بورڈ گلے میں لٹکائے ہوئے آپ اتنے اچھے معلوم ہو رہے تھے کہ کیا بتاؤں ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے میں نے یہ بورڈ بنوایا ہی اسی موقع کے لیے تھا”

مجھے غصہ بھی آیا اور اپنی کیفیت یاد کر کے ہنسی بھی آئی لیکن پسیلوں کی حفاظت زیادہ اہم تھی اسلیۓ خاموش رہنے میں ہی عافیت تھی میر صاحب نے میری خاموشی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے وکس کی بھری ہوئی شیشی اٹھالی اور دونوں ہاتھ پیر گردن ماتھا اور گدی پہ ملنے کے بعد خالی شیشی کھڑکی سے باہر پھینک دی اور میری طرف دیکھ کے بولے “بھائی اب تو کمبخت اتنی کم دوا شیشی میں رکھتے ہیں کہ سونگھا اور ختم ہوئی ابا میاں ایک دفعہ وکس لائے تھے کہ سات دن تک تمام گھر والوں نے ملی” میرا جی چاہا کہ پوچھ لوں کہ ان گھر والوں پر کیا چھت گر پڑی تھی مگر پسلیوں کی تکلیف آڑے آگئی

Scroll to Top