مشاہدہ اور محسوسات
تحریر – شاہد رضوی
ہمیں خوشی ہے کہ آخر صدارتی کابینہ نے ہماری یہ تجویز مان لی کہ جو لوگ اپنے وسائل سے زیادہ معیار زندگی رکھتے ہیں ان کا محاسبہ کیا جائے- ہمیں اس کا افسوس نہیں ہے کہ کابینہ نے اس تجویز کے پیش کرنے کی ساری نیک نامی اپنے سر لے لی اور ہمارا ذکر تک نہ کیا لیکن یہ افسوس ضرور ہے کہ کابینہ نے ہماری مکمل تجویز کے بجائے صرف آدھی تجویز تسلیم کی ہماری مکمل تجویز میں یہ بھی شامل تھا کہ اس بات کی بھی تحقیقات کی جائے کہ ملک کی کتنی آبادی اپنے وسائل سے (یعنی جو ہونے چاہیں) کم معیار زندگی رکھتی ہے اور کتنی آبادی قطعی کوئی معیار زندگی رکھتی ہی نہیں
ہماری تجویز کا مقصد یہ تھا کہ تصویر کے دونوں رخ سامنے آجائیں- ہماری نیت صاف تھی اور ہم یہ نہیں کہتے کہ چند نیک نام لوگوں کو (جس میں سب پردہ نشینوں کے نام ہی آتے ہیں) بدنام کیا جائے لیکن وہ لوگ جو پہلے ہی سے بدنام ہیں ان کی تعداد معلوم ہونے میں کیا حرج ہے ہمارے آپ کے اندازے تو بیکار ہیں سرکاری عادت و شمار کے آگے- کیونکہ صرف سرکاری اعداد و شمار ہی مصدقہ ہیں آپ لاکھ کہیں کہ مہنگائی بہت زیادہ ہے ہم لوگ مہنگائی سے پسے جا رہے ہیں آپ کی کون سنے گا اگر یقین کرنے کی چیز ہے تو اسٹیٹ بینک کی رپورٹ جس میں وضاحت سے لکھا ہے کہ ملک کی کل پیداوار میں اضافہ ہوا ہے فی کس آمدنی بڑھ گئی ہے بیرونی تجارت اور منڈی کی سرگرمی بڑھ گئی ہے
آپ پر کیوں یقین کریں جو تین میں نہ تیرہ میں ہم یقین کریں گے تو صدر صاحب کی بات پر جو کہتے ہیں کہ ملک خوشحال ہو گیا ہے اسٹیٹ بینک کے رپورٹ پر یاد آیا کہ ہم آمدنی میں فی کس اضافے کا پڑھ کر کئی دن تک حیرانوں پر پریشان رہے لیکن صاحب ہم نے بھی وہ نکتہ معلوم کر ہی لیا یعنی وہ فارمولا جس پر آمدنی میں اضافے کے حساب کی بنیاد تھی آپ کی تسلی کے لیے آپ کو بھی بتا دیتے ہیں
چند ماہ پہلے ہم گھر کا راشن پورے مہینے کا چار سو روپے میں لائے تھے اس کے بعد اتنا ہی راشن پانچ سو میں آنے لگا اور اس ماہ ہم ساڑھے چھ سو میں اتنا ہی راشن لائے ہیں ظاہر ہے کہ اشیاء کی مہنگائی کے باوجود اگر ہم نے اپنی خوراک کم نہیں کی تو صاف بات ہے کہ ہماری آمدنی میں ڈھائی سو کا اضافہ ہوا ہے اصل نکتہ یہ ہے کہ اگر آپ اسے اضافے سے انکار کریں تو آپ کا نام وسائل سے زیادہ معیار زندگی رکھنے والوں میں آئے گا اور محاسبہ ہو جائے گا اور اگر آپ اقرار کر لیں تو اسٹیٹ بینک کی رپورٹ صحیح ہے
ہاں صاحب تو بات ہو رہی تھی وسائل کی- اصل تجویز پیش کرتے ہوئے ہم سے بھی غلطی ہو گئی ہمیں یہ یاد نہ رہا کہ زندگی کو وسائل سے بلند رکھنا تو بڑے دل گردے کا کام ہے جس پر تحسین آفرین کا سرٹیفیکیٹ ملنا چاہیے نہ کہ محاسبہ ہو جائے – آپ خود ہی سوچیے کہ وسائل نہ ہونے کے باوجود ہم جو دو جوڑی کپڑے بنا لیتے ہیں تو کیا اس پر ہمارا محاسبہ ہونا چاہیے کیجیے آپ محاسبہ ہم یہ بھی نہ بنائیں گے
ہماری تجویز یہ ہونی چاہیے تھی کہ تحقیقات کی جائے کہ وسائل کس کے پاس دوسروں سے زیادہ ہیں اور کیوں اور کتنے زیادہ ہیں ہمیں معلوم ہے کہ کابینہ اس تجویز کو تسلیم نہیں کرتی کیونکہ وسائل کی اصل تقسیم تو حکومت کرتی ہے اور کوئی حکومت اپنے خلاف تحقیقات نہیں کرا سکتی ریوڑیاں تو اندھے نے اپنا نام لے لے کر اور ٹٹول کر پہچان کر بانٹ دیں
اب نہ تو ان سے واپس لینے کا کوئی سوال ہے نہ فریاد کرنے کا- فریاد کرنے میں یہ خطرہ ہے کہ کوئی اسے بیچ بازار میں کسی گاڑی کے آگے دھکا نہ دیدے اندھے کی ‘نورا’ فریاد کے پھر دو ہی مطلب ہو سکتے ہیں یا تو یہ کہ ‘کمبختو’ ریوڑیاں تو لے لیں مگر اب میری مدد نہیں کرتے- یا پھر “تم لوگ زیادہ لے گئے مجھے اوروں کو بھی دینی ہے”
مشکل یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس وسائل زیادہ ہو گئے ہیں ان کے نام کون بتائے وہ لوگ خود تو اس لیے نہیں بتائیں گے کہ ان کی مرضی- حکومت اس لیے نہیں بتائے گی کہ وہ کوئی عوام کو جواب دہ تو ہے نہیں- لہذا ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ خود ہی تلاش کریں ہم اپنی آسانی کے لیے انہیں تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں پہلی صف میں سرکاری افسر- دوسری صف میں جاگیردار تجارتی سرمایہ دار، کارخانے دار بینکار اور وہ لوگ جو سرکاری افسروں کے ساتھ مل کر لوٹ کھسوٹ مچاتے ہیں اور تیسری صف میں اور تمام بغل بچے اور چمچے ہیں جو تالیاں پیٹنے کا انعام حاصل کرتے ہیں اگر کوئی چوتھے صف بھی ہے تو ہمارے علم میں نہیں ہے اگرکوئی صاحب اس مضمون کو پڑھ کر چوتھی صف کی نشاندہی کریں تو ہمارے علم میں اضافہ ہوگا اور ہم ممنون ہوں گے
بیچارے سرکاری افسروں کے پاس وسائل نہیں تھے اختیارات تھے جو انہیں عوام کے نام پہ ملے تھے لیکن یہ ایسے سائیس تھے جنہوں نے گھوڑوں کی رکھوالی کے بجائے گھوڑے بیچنا شروع کر دیے تاکہ لمبی تان کر سو سکیں اپنا غریب سے غریب افسر بھی ہفتے میں دس پانچ لاکھ حاصل کر ہی لیتا ظاہر ہے کہ اخبارات تو وسائل کے رکھوالے ہوتے ہیں
جب اختیارات بیچے تو ساتھ میں ضمیر بیچا پی ایم ایل 480 کے بدلے ایمان بیچا سامان حرب کے ٹھیکے بیچے لائسنس بیچے پرمٹ اور ٹھیکے بیچے زمینیں بیچی لیکن جو سب سے بڑی چیز بیچ ڈالی وہ عوام کا حق خودارادیت تھا سو جناب جب سو پچاس لاکھ جمع ہو گئے تو پرمٹ اور ٹھیکے لینے شروع کر دیے یعنی بیچنے والے بھی خود خریدنے والے بھی خود اور اب ایسی حیرت انگیز بیوروکریسی وجود میں ائی جس کا دنیا کی اگلی پچھلی سارے تاریخ میں کہیں جواب نہیں- تاریخ تو الگ رہی طلسم ہوشربا میں بھی جواب نہیں ہے دوسری صف میں وسائل خریدے اور ایسے خریدے کہ کوئی شے جائز مالکوں کے پاس باقی نہ رہی اور ہم بیچارے درمیانے طبقے کے لوگ- جو اچھے خاصے حالات میں بھی بے ایمانی کی طرف راغب رہتے ہیں اس صورتحال میں لازمی طور سے ماہر جعلساز ہو گئے جو نہ ہو سکے وہ ایمانداری کی موت مر گئے لیکن یہ ضرور ہوا کہ جب بھی عوام نے صف اول اور دوم کے خلاف صف بندی کی ہم درمیانے طبقے کے لوگ دل سے ان کے ساتھ تھے اور مار بھی سب سے زیادہ ہم پر پڑی- اور جب بھی کوئی ایسی بات ہو تو ہمارا سر فورا کھجلانے لگتا ہے
خیر صاحب اختیارات چلے گئے افسروں کے پاس وسائل چلے گئے دولت مندوں کے پاس مشکل یہ آن پڑی کہ ہمارے مولوی حضرات کدھرجائیں اور کیا کریں انہوں نے فورا” ہی سیاسی قصیدہ گوئی کے انجمنیں بنا ڈالیں براہ راست قصیدہ گوئی میں چونکہ خطرہ بھی براہ راست تھے اس لیے مولوی حضرات نے یہ چال چلی کہ باغباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی
کسی نے اعلان کیا کہ جاگیرداری اسلام کے رو سے جائز ہے کسی نے کہا ایک شخص کی فرمانروائی عین اسلام ہے کسی نے فرمایا دولت اور غربت اللہ کے دین ہے ہمیں یاد ہے جب مصر پر اسرائیل نے حملہ کیا تو چونکہ ہماری حکومت اور امریکہ بہادر مصر کے خلاف تھے اسں ایک اسلامی جماعت نے مصر کی حمایت کو گناہ قرار دیا ہے کیونکہ مصر کی گنہگار حکومت کو اللہ نے سزا دی تھی قصیدہ گوئی کی معراج یہ عالم ہے کہ جہاں سے ڈالر ملتے ہیں وہ ملک اسلام کا محافظ ہے اس جماعت کو تو سب ہی پہچانتے ہیں لیکن وہ لوگ جو تبلیغ دین کے نام پہ چپکے چپکے لوگوں کو بیوقوف بناتے پھرتے ہیں وہ بھی درپردہ قصیدہ گوئی کے ماہر ہیں آپ کو سمجھائیں گے کہ آپ سادہ زندگی گزاریں اور یہ ٹی وی ریڈیو گھریلو استعمال کی مشینیں سب شیطانی چرخے ہیں آخر صحابہء کرام نے بھی تو ٹی وی اور ریڈیو کے بغیر زندگی گزاری اور کیسے کیسے کارنامے انجام ديے
ان سب کا مقصد یہ ہے کہ تقسیم دولت کے اس ظالمانہ نظام کو ایسے ہی رہنے دیا جائے دولت دولت مند رہے اور غریب غریب- ان سوالات کے جواب میں ہمیں حضرت علی کا ایک قول یاد آرہا ہے کہ دولت غضب شدہ حقوق جمع کرنے کا نام ہے
تو جناب ہم صدارتی کابینہ سے عرض کریں گے کہ چند افراد کے خلاف تحقیقات محض نورا کشتی ہے اگر آپ مخلص ہیں حضرت عمر بن عبدالعزیز کی طرح وسائل بمع اختیارات ان کے اصل مالکان یعنی عوام کو واپس کر دیجیے اور خود اللہ کا شکر ادا کیجئے کہ اللہ نے آپ کو انتخابات کرانے کی توفیق دی





