سرکاری خرچ پر اصغر خان کو لیڈر بنانے کی کوشش
میاں محمود علی قصوری کو بھیجنے کے لیے تار تیار' تاریخ ڈالنا باقی ہے
تحریر – شاہد رضوی
ہم نے یہاں میاں محمود علی قصوری کے نام پر مبارکباد کا تار لکھ کر تیار کر لیا ہے صرف تاریخ نہیں ڈالی کیونکہ شام کے ایک روزنامے کی اطلاع کے مطابق میاں صاحب قومی حکومت کے سلسلے میں جماعت اسلامی سے بات چیت کر رہے ہیں ہمیں کچھ امید بھی یہی تھی کہ قومی غیر نمائندہ حکومت بنانے کے سلسلے میں جماعت اسلامی اور پگارا مسلم لیگ کے بعد کوئی تیسری جماعت تعاون کے لیے ہاتھ بڑھا سکتی ہے تو وہ تحریک استقلال ہے وجہ یہ ہے کہ اگر تحریک استقلال فوج کو جمہوری حکومت کے خلاف دعوت دے سکتی ہے تو فوجی حکومت میں شامل ہونے میں کیا مضائقہ ہے دوسرے یہ کہ سرکاری خرچ پر اصغر خان کو صف اول کا لیڈر بنانے کی ساری کوششیں ناکام ہو گئیں تو بلاوجہ وہ شریف آدمی کیوں نظر بند رہے اسی بہانے باہر آجائے گا تیسری وجہ بقول اس خبر کے یہ ھیکہ ایم آر ڈی والے کمیونسٹ ہو گئے ہیں
قطع نظر اس بات کے کہ یہ تینوں جماعتیں جس قوم کی نمائندگی کرتی ہیں اس سے پاکستانی عوام کی ملاقات آج تک نہیں ہوئی ہم تیسری وجہ کو تسلیم کرنے پہ کچھ مائل نظر آرہے ہیں ہمیں یہ بھی یہ شک ہو چلا ہے کہ نہ صرف ایم آر ڈی والے بلکہ پاکستانی عوام سبھی کچھ کمیونسٹ ہو چلے ہیں اور جو نشانات و علامتیں ہمیں اس سلسلے میں یعنی کمیونسٹ ہوئے جانے کی ملی ہیں ان سے ہم بھی حیران ہیں امریکی سی آئ اے حکومت اور بیورو کیریسی اگر حیرانی ہو تو کوئی تعجب نہیں مثلا” پاکستانی عوام نہ تو صدر صاحب کے نفاذ اسلام پر بھروسہ کر رہے ہیں اور نہ ان کے مثبت نتائج کے لیے انتظار کرنے کو تیار ہیں نہ صرف یہ غیر اسلامی ہے بلکہ پوری قوم انتخابات کا انتہائی غیر اسلامی نعرہ بلند کر رہی ہے
مسلمان ہمیشہ مہمان کو باعث رحمت سمجھتا ہے لیکن افغان مہاجرین کے بارے میں ہم انتہائی غیر اسلامی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہیں مانا کہ غیور پٹھان وہیں رہ گئے اور سودی کاروبار کرنے والے مہاجرین آگئے پھر بھی جماعت اسلامی کو ان سے شیفتگی اور محبت کا بھی ہمیں خیال کرنا چاہیے ڈالر کے جھگڑوں میں جو ان مہاجرین کے مختلف گروپ لڑتے ہیں تو آخر ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل بھی تو ہماری سرزمین پر ہوتے ہیں اور پھر ماشاءاللہ ان کی موجودگی امریکی امداد کے لیے ایسی سفارش ہے جو رد ہی نہیں ہو سکتی اس کے باوجود اگر انہیں نکالنے کا مطالبہ کیا جائے تو اسے صرف غیر اسلامی بلکہ غیر جماعت اسلامی اور کمیونسٹ ہونے کی علامت کے علاوہ کیا کہا جائے گا
آپ نے کسی اسلامی ملک میں دیکھا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت حکومت بڑھائے اور ٹرانسپورٹر حضرات بجائے کرایہ بڑھانے کے حکومت سے مطالبہ کریں کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت کم کی جائے اور پھر ہڑتال کریں؟ ہے نا یہ مطالبہ غیر اسلامی اور کمیونسٹ طرز کا پھر جمیعت طلبہ اسلامی نے جس طرح اسلامی بسوں کی ہوا نکالی ہے اس پرغیرت اسلامی کا تقاضا تو یہ تھا کہ عوام ان کے ساتھ ہڑتال کرتے اور اسلامی قاتلوں کو رہا کرانے میں ان کی مدد کرتے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ عوام کمیونسٹ ہوگئے ہیں ورنہ اتنا عدم تعاون نہ ہوتا
پھر یہ بھی تو سوچیئے کہ جو سالانہ فسادات کرانے کی کوشش ہوتی ہے جنہیں رنگ دینے کے لیے کیا کیا جتن کیے جاتے ہیں سال عوام نے ان کی پذیرائی نہیں کی بلکہ سب نے مل کے مقابلہ کیا جو دو تین دن سب کچھ بند رہا اس کی وجہ سال بھر کے جمع کیۓ ہوئے ناکارہ ٹائر تھے نہ پرانے ٹائر جلتے نہ دعا پھیلتا اور نہ ہی دھویں کے پیچھے سے کچھ حضرات کو پتھر بازی کا موقع ملتا اس لیے ہماری تجویز یہ ہے کہ ایسے موقع پر حکومت کو سب سے پہلے پرانے ٹائروں کی طرف توجہ دینی چاہیے نہ ہوںگے ٹائر نہ لگے گی آگ- ہم اس پر تو تبصرہ نہیں کریں گے کہ ایم آر ڈی والے روسی ٹینکوں پر بنتا بیٹھ کر آنا چاہتے ہیں کیونکہ جو لوگ جا ہی نہیں سکتے وہ آئیں گے کہاں سے؟ ایک شہر کے دوسرے شہر اور ایک صبح کے دوسرے صوبے میں جانے کے لیے جو لوگ ترس گئے ہیں یہ بات ان کے بس میں کہاں؟ وہاں آکر حکومت خود ہی ایسا انتظام کر دۓ تو یہ حکومت کی مرضی
صاحب یہ ہے کہ نہ تو عوام کمیونسٹ ہو گئے ہیں نہ ہی ایم آر ڈی والوں کو روسی ٹینکوں پہ بیٹھنے کا شوق ہے بلکہ لوگوں نے بیوقوف بننے کی عادت ترک کر دی ہے حتی کہ وہ لیڈر بھی جنہوں نے بھٹو کے خلاف نظام اسلام کی تحریک چلائئ ہے اچھی طرح جان گئے ہیں کہ اب لوگ نظام اسلام کا نعرہ سننے کو تیار نہیں ہیں اور اب وہی لیڈر انتخابات اور آئین کے بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں
شعبدہ گری کرنے والوں کے سارے شعبدے ختم ہو چکے ہیں ایک شعبدہ باز کے شعبدوں کا بھرم عوام میں ختم ہو گیا اس نے منہ سے گولے نکالے تو لوگوں نے کہا کہ یہ گردن کے پاس آٹھ دس گولے رکھے ہوئے ہے اس سے رومال پھاڑ کے جوڑا تو لوگوں نے کہا یہ دوسرا رومال ہے ہر شعبدہ پر لوگوں کے جملوں سے اس نے اندازہ کر لیا کہ لوگ اب کوئی شعبدہ قبول کر لینے پر تیار نہیں لہذا اس نے اعلان کیا کہ وہ اپ اپنا عظیم اور آخری شعبدہ دکھائے گا اس نے پبلک کے رومال جمع کیے اور انہیں اسٹیج پہ ڈھیر کردیا پھر اپنے جسم پہ جانگیہ چھوڑ کر باقی کپڑے اتارے اور اس ڈھیر میں ڈال دیۓ پھر ایک صاحب نے ماچس لے کے اس ڈھیر میں آگ لگا دی اور ایک جانگیہ میں ٹہلتا ہوا اسٹیج سے اتر کرچلا گیا
ہم یہ عرض کر رہے تھے کہ عوام کے رویہ کے خلاف بند باندھنے والوں کا حشر اس شعبدہ گر جیسا ہی ہوتا ہے اب تک انتخابات سے توجہ ہٹانے کے لیے جو ڈرامے کھیلے گئے ان کی کیفیات سامنے ہیں تازہ ترین ایکٹ کا ڈرامہ بھی ناکام ہو گیا اور حالانکہ اسے آخری کہا گیا ہے لیکن ہمیں امید نہیں کہ سی آی اے کی فہرست میں یہ آخری ہوگا چاہے نہ ہو اور دو چار سے لیکن ہمیں یقین ہے کہ عوام کے شعور کو جمہوریت کے حصول کے لیے جتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اتنا ہی جمہوریت کا پودا تناور درخت بن کے ابھرے گا
ہماری تو یہ ہمت نہیں پڑتی کہ اتنے بڑے بڑے لیڈروں کو نیک و بدسمجھائیں لیکن اگر یہ خبر صحیح ہے تو پھر کون گارنٹی کون دے گا کہ اسٹیج سے اترتے ہوئے وقت جانگیہ جسم پر ہی ہوگا کپڑوں کے جلتے ڈھیر میں نہیں





