IMG-20240619-WA0014

کچھ غزلیں شاعر کی آواز میں

0:00 / 0:00
نہ دل کی دیت کوئ نہ کوئ جنوں کا صلہ

دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا

0:00 / 0:00
اے رہروان مقتل جاں یہ بات سمجھنا لازم ہے

دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا

0:00 / 0:00
سونا رستہ دور سویرا دۓ جلاۓ رکھنا

دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا

0:00 / 0:00
دروازہ کھلا رکھنا

دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا

0:00 / 0:00
حریم حسن میں دل کا وقار باقی رہے

دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا

0:00 / 0:00
آج پھر اپنے دکھوں سے میں پشیمان پھرا
0:00 / 0:00
بنجاروں سے پیار کروگے آخر میں پچھتاؤگے
0:00 / 0:00
دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا

دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا

0:00 / 0:00
نہ قتیل درد وفا کوئ نہ نثار عارض و لب کوئ

دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا

0:00 / 0:00
کیا جانے شب کب آئ کدھر کو سحر گئ

دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا

0:00 / 0:00
تیری شہرت بھی بہت اور میں رسوا بھی بہت

دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا

0:00 / 0:00
دل وحشی کو صدا دیتے ہیں جانے والے

دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا

0:00 / 0:00
میرا بچہ

دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا

Scroll to Top