مرغ قبلہ نما اور انسان

تحریر شاہد رضوی

مرغ قبلہ نما اس مرغ کو کہتے ہیں جو کسی اونچی چھت پر ایک سلاخ پر اپنا گھومتا ہوا آشیانہ بنائے ہوئے اور اس کے پنجوں کے عین نیچے چار کٹوریاں گھوم رہی ہوں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مرغ بمعہ آشیانے اپنے آپ ہوا کے ساتھ گھومتا ہے یا چاروں سلاخیں دار کٹوریاں اسے گھماتی ہیں ایسے مرغ کو بہت سے لوگ مرغ بادنما بھی کہتے ہیں ایک زمانہ تھا جب ہوائیں قبلے کے رخ چلتی تھیں لہذا لوگ ایک ہی مرغ سے دونوں کام نکالتے تھے ہوا کا رخ بھی معلوم ہو گیا اور قبلہ کا بھی لیکن اس دور میں نہ جغرافیہ کا اعتبار رہا ہے نہ تاریخ کا اب جو یہ لوگوں کو شکایتیں پیدا ہوئی ہیں کہ مرغ قبلہ نما ہوا کا رخ نہیں بتاتا اور مرغ باد نما قبلہ کی نشاندہی نہیں کرتا تو اس میں کچھ قصور مرغ کا نہیں ہے ہوا کے رخ اور قبلہ کے درمیان وہ پہلے والی مفاہمت ہی باقی نہیں رہی

بعض جگہ تو سنا ہے کہ مرغ اور اس کی کٹوریوں میں بھی ہم آہنگی نہیں ہے یعنی مرغ کسی اور سمت گھومتا ہے اور اس کی کٹوریاں کسی اور سمت- ان شکایتوں کی نوعیت مقامی ہے لیکن بہرحال ان کی کارکردگی پر سے تو اعتبار اٹھ گیا اکثر ایسا ہوا کہ لوگ مرغ کے پر عین کٹوریوں کے ساتھ گھوم گئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ قبلہ سے منحرف ہو گئے ان شکایتوں کے تدارک کے لیے لوگوں نے ایک مرکزی قبلہ نما تشکیل دیا ایک جسیم فربہ مرغ کو آشیانہ کی سلاخ پر مضبوطی سے بٹھا دیا اور اس کے پنجوں کو کٹوریوں کی سلاخوں سے اس طرح ویلڈ کر دیا گیا کہ مجال ہے کہ کٹوریاں مرغ کی مرضی کے بغیر متحرک ہو جائیں لیکن پھر ایک غلطی ہو گئی بھاری بھرکم مرغ اور وزن دار کٹوریاں جامد ہو گئیں مرغ اپنا رخ ایک طرف کر کے ٹھہر گیا اور اب نہ کٹوریاں گھوم رہی ہیں نہ مرغ خیر اگر سکتے کی یہ کیفیت تھوڑی دیر رہے تو کوئی بات نہیں، تیز ہوا چلے گی تو اپنے آپ گھوم جائے گا

لیکن اگر تیز ہوا سے بھی نہ ہلا تو پھر مرغ ہی بدلنا پڑے گا عوام کا خیال ہے کہ نیا مرغ بنانے میں نصف صدی سے زیادہ کا وقت لگ جاتا ہے لہذا ایک کوشیش اسے چلانے کی اور کر لینی چاہیے نہ چلے تو پھر مجبوری اس کا کھیکیھڑ سے تنگ آکر عوام نے مرغ قبلہ نما پر مرغ کو ترجیح دینا شروع کی کر دی اور اس کے لیے وجوہات بھی بہت معقول ہیں مرغ کو آپ پال لیجیے تو مانوس ہو جائے گا آ آ کی آواز نکالنے لے دوڑا چلا آئے گا نمک حلال اتنا کہ آپ کے ذائقہ کے لیے جان قربان کر دے گا بانگ بھی دیتا ہے اور کیا بھلی آواز لگتی ہے سینہ پھلا کر چلتا ہے تو ٹارزن معلوم ہوتا ہے کلغی لہراتا ہے تو سکندر اعظم لگتا ہے اور پھر خوش رنگ و خوش لباس اور اس کے مقابلے میں ذرا مرغ قبلہ نما کو دیکھیے ہمیشہ کسی اونچی عمارت پہ رکھا نظر آئے گا آپ پال لیں مانوس یہ صرف ہوا سے ہوگا اور ہر وقت سہما سہما اور خوفزدہ سا- نہ سینہ پھلانے کے قابل، نہ کلغی لہرانے کے قابل- آپ کتنا ہی اس پر رنگ و روغن کیجیے آوازیں دیجیے – تالیاں بجائیے نیچے جھک کر نہیں دیکھے گا اس کی وفاداریاں کہاں ہیں یہ کسی کو نہیں بتاتا- بانگ یہ دے نہیں سکتا ہوا کے تھپڑوں میں فریاد کی آواز ضرور نکالتا ہے پھر یہ کہ مرغ پر پھڑپھڑائے گا تو مٹی اڑے گی ہوا کا رخ معلوم ہو جائے گا کم از کم جان بوجھ کر غلط اطلاع تو نہیں دیتا مرغ قبلہ نما کو دیکھیے ہوا چلی اور پھر کی طرح گھوم گیا ایسے کیا خاک ہوا کا رخ معلوم ہوگا

ہمارے لکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ مرغ قبلہ نما بالکل بیکار اور بے مصرف ہے شیروانی پہنا کر حلف برداری کے تقریب میں کھڑا کر دیجیے تو کچھ شبہ ہونے لگتا ہے کہ کبھی بھلے مانسوں میں رہا ہوگا وزارت کی کرسی پہ بٹھا دیں تو کبھی سندھ کا پیر نابالغ نظر آتا ہے کبھی شیر پنجاب کچھ لوگوں نے تو اسے وزارت عظمی کی کرسی پر بیٹھے دیکھا ہے ہر ایک کے لیے اس کا قبلہ ٹھیک ٹھیک بتاتا ہے جتوئی صاحب کا قبلہ کھو گیا تو یہ جنرل ضیا کی طرف منہ کر کے رک گیا مہاجروں کا قبلہ کھو گیا تو اسلام اباد کی طرف نشاندہی کرنے لگا صدر کا قبلہ کھو گیا تو فوج کی طرف منہ کر دیا عراق سے ناراض ہونے والوں کا قبلہ امریکہ بنا دیا خاص خاص لوگ اپنا قبلہ درست رکھنے کے لیے اس سے مدد لیتے ہیں

ہم محاورتا” یہ کہہ سکتے ہیں کہ آنکھ میں سور کا بال اگر انسانوں کے علاوہ کسی اور جانور میں پایا جاتا ہے تو یہ مرغ قبلہ نما ہے لمحہ کے ہزارویں حصہ میں پلٹ جاتا ہے صبح سے شام تک کا انتظار نہیں کرتا پلک جھپکنے میں ابھی آپ کی طرف رخ تھا ابھی آپ کے مخالفوں کے طرف ہو گیا فرق یہ کہ انسان کبھی کبھی شرمندہ بھی ہو جاتا ہے یہ شرمندہ نہیں ہوتا

ہوا کے بارے میں بیشتر محاورے اس نے غلط کرا دیۓ چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی – ہوا کسی طرف کی ہو یہ چلتا نہیں ایک ہی جگہ کھڑے کھڑے گھومے جاتا ہے اسی گھومنے پہ تو وزیر تعلیم بن جاتا ہے چلتا ہوتا تو جانے کہاں پہنچتا- ہوا رک جائے یا حبس ہو جائے تو اس پہ کوئی اثر نہیں ہوتا- وجہ یہ ہے کہ بے حس ہوتا ہے اگر اس میں کوئی حس ہوتی تو ہمیں کالم لکھنے کی ضرورت پیش نہ آتی- ہوا لگ جانے کا اسے کوئی دھڑکا نہیں- ہوا بگڑ جانے کا اسے کوئی غم نہیں پھر یہ کہ ہوا کے بارے میں اس کی معلومات صفر ہیں نہ مقامی نہ مرکزی مرغ قبلہ نما نہ اسے یہ پتہ کہ ہوا گرم ہے کہ ٹھنڈی ہے ٹھنڈی ہے تو نمی کا تناسب کیا ہے کوئے یار سے رہی ہے کہ کوچہ قاتل سے- جو اپنی زلف کی خوشبو بسی ہے کہ بارود کی بو ہے ایسے تو یہ بھی خبر نہیں کہ گرم ہوتی ہوئی ہوا کب طوفانی تھپڑوں میں ڈھل جائے گی اور اس کا ٹھنٹھ نما آشیانہ اوپری منزل سے نیچے پھینکتی ہوئی چلی جائے گی مرغ قبلہ نما کی زندگی کا بیشتر حصہ راجاؤں، بادشاہوں اور آمروں کے زیر سایہ گزرا ہے لہذا اسے جمہوریت کا سرے سے کوئی پتہ نہیں- ایک سلاخ پہ چاروں طرف گھوم جانے کو یہ جمہوریت سمجھتا ہے اسے شاید خبر نہ ہو کہ ہوائیں تو بہت اوپر چلتی ہیں اور اوپر ہی رہ جاتی ہیں جبکہ عوام جو جمہوریت بناتے ہیں نیچے رہتے ہیں اور یہ انہیں جانتا تک نہیں

تو یہ ہے اپنا مرغ قبلہ نما

 

Scroll to Top