وزیراعظم کا امریکہ بچاؤ مشن

تحریر- شاہد رضوی

میاں نواز شریف “امریکہ بچاؤ مشن” پر نکلے تھے کہ لوگ یہی کہہ رہے ہیں کہ عراق میں 28 ملکوں کی فوج قاہرہ کی جو امریکہ بہادر کی قیادت میں حملے کر رہی ہے مسلسل ٹھڈے مار مار کر بے حال کر دیا ہے لہذا میاں نواز شریف وزیراعظم پاکستان امن تجاویز لے کے ایران اور ترکی اور اردن گئے ہیں ایسے ہی بعض دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ میاں صاحب اپنا ٹی اے ڈی اے بنانے اور تفریح کرنے گئے ہیں ان کا بھلا امن تجاویز سے کیا واسطہ

دلیل یہ دیتے ہیں کہ چہ پدی و چہ پدی کا شوربہ- یہ حیثیت تو نہیں ہے کہ اتنے بڑے بڑے معاملات میں بولیں- زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہیں کہ دس پندرہ ہزار سپاہی امریکہ بہادر کے حکم پر بھیج دیں اپنے عوام سے تو جھوٹ بولا جا سکتا ہے کہ صرف ہم نے اپنے فوجی حرمین شریف کی حفاظت کے لیے بھیجے ہیں جو حرمین شریف سے تین ہزار کلومیٹر دور رہ کر اس کے حفاظت کریں گے اتنے فاصلے سے حفاظت تو ممکن نہیں ہے لیکن ہمارے فوجیوں کو اتنی دور رکھنے میں سعودی حکومت کے پیش نظر کوئی مصلحت تو ہوگی ظاہر ہے کہ اس فوج کو حرمین شریفین کی حفاظت کا کام اتنے فاصلے سے ہی دیا جا سکتا ہے

لوگوں کا کہنا ہے حیثیت تو پہلے ہی نہیں تھے اوپر سے این ڈی آئی والوں نے جو بھدکی ہے اس نے رہی سہی لٹیا بھی ڈبو دی ظاہر ہے نواز شریف اگر جعلی ووٹوں سے برسر اقتدار آئیں گے تو یہی ہوگا لوگ اس دلیل کے لۓکہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر کوئ حثیت ہوتی تو کوئ ہماری سنتا- اور اگر کوئی سنتا تو ہم عراق کو سناتے یا سعودی عرب کو یا امریکہ کو سناتے یہ جو میاں نواز شریف ایران اور ترکی کو سنانے گئے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ حیثیت بھی چھپی رہے گی اور ریکارڈ پر بھی آ جائے گا کہ یہ بھی آئے تھے یا گئے تھے یا آ کر چلے گئے تھے

یہ دلیلیں تو اور لوگوں نے دی ہیں لیکن جو دلیل شیخ رشید آئی جے آئی والا نے دی ہے اس کا تصور نہ صدر اسحاق کر سکتے ہیں اور نہ ہی چیف الیکشن کمشنر- کسی نے غلطی سے پوچھ لیا کہ عوام صدام حسین کے ساتھ ہیں لیکن حکومت جی آیا نوں، امریکہ کے ساتھ ہے ایسا کیا ہے؟ شیخ رشید نے اسے سمجھایا کہ میاں صاحب بات یہ جمہوریت کی وجہ سے ہے شیخ رشید کا مطلب یہ ہے کہ اگر جمہوریت نہ ہوتی تو تم دیکھتے کہ عوام بھی امریکہ کے ساتھ ہیں جمہوریت کے یہ نئے معنی ہیں کہ حکومت کو عوام سے قطعی مکمل اختلاف کا حق حاصل ہے ماشاءاللہ اسے کہتے ہیں من چہ می سراۂم و طنبورہ من چہ می سرائم- یعنی عوام گا رہے ہیں اور ان کا طنبورہ میاں نواز شریف اور کابینہ کچھ اور گا رہے واہ طنبورے واہ اے ہیں

ہندو دیو مالا میں ایک دیوتا ہے وشنو- اس کی بیوی نے اس کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے اپنے بدن کے میل سے ایک مورتی بنائی جس کے ماتھے پہ ہاتھی کی سونڈ لگا دی باقی بدن انسانوں کا رکھا وشنو نے جب اس عجیب الخلت مورتی کو دیکھا تو اس میں جان ڈال دی اور اس کا نام گنیش رکھ دیا دوسرے دیوی دیوتاؤں نے اعتراض کیا کہ بھئی یہ آدمی ہے نہ یہ ہاتھی ہے یہ کیا کرے گا تو وشنو نے جواب دیا بیٹھا بیٹھا سونڈ ہلائے گا یہ تو ہمیں معلوم نہیں کہ ہماری حکومت اور گنیش میں کتنی مماثلت ہے لیکن کچھ اشتراک عمل ضرور ہیں سنا ہے کہ ہماری پوری کابینہ کئی کئی گھنٹے بیٹھ کے صرف سونڈ ہلاتی رہتی ہے ہاتھی کی عادت ہے کہ جو کچھ سونڈھ کے آگے آئے اٹھا کر منہ میں رکھ لیتا ہے ایم سی بی کا حشر آپ نے دیکھ لیا اس کے ملازمین بھی ایک ایک کر کے سونڈھ سے اٹھا لیے جائیں گے کسی عام ہاتھی کی سونڈھ تو روک لے گنیش کے سونڈھ کو کون روکے- ہندؤں میں گائے متبرک ہے اور ہمارے ہاں ہاتھی

ہاتھی کا نام ہم محاورتا” بھی استعمال کر لیتے ہیں حالانکہ ہاتھیوں کی ناراضی کا خطرہ موجود رہتا ہے مثلا” ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص نرا ہاتھی ہے فلاں شخص تن و توش میں ہاتھی ہے یہ بھی کہتے ہیں کہ فلاں شخص ہاتھی کی طرح بیٹھ گیا

ایک صاحب کو سخت شکایت ہے کہ بائیں بازو کی تحریکیں جن لوگوں کو علم و فضل اور سیاسی کارکردگی میں ہاتھی بناتی ہیں وہی لوگ ان تحریکوں پر ایسے بیٹھ جاتے ہیں جیسے ہاتھی- ہم نے ان سے کہا جب ہاتھی بناؤ گے تو بیٹھتے وقت بھی ہاتھی نہ رہے گا اسمیں شکایت کی کیا بات ہے- کہنے لگے بیٹھنا ہے تو کہیں اور بیٹھے ہم پر بیٹھنا ضروری ہے اب مثلا” ایک صاحب ہیں جو خود کو معاشی ماہرین میں ہاتھی شمار کرتے ہیں البتہ تاریخی طور پر ذرا کمزور واقع ہوئے ہیں انہوں نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اعلان کر دیا کہ سرکار برطانیہ نے ہندوستان سے بلکہ جنوبی ایشیا سے جاگیرداری ختم کر دی تھی ان کے اس اعلان کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جاگیردار اور جاگیردارانہ رجعت پسندی کو نئی زندگی دینے کی کوششیں شروع ہو گئیں یعنی اس ملک میں سرمایہ داری اور جاگیرداری دونوں ساتھ ساتھ قائم رہ سکتے ہیں برطانوی سامراج کے ہاتھی کی سونڈ سے لٹک کر ان صاحب نے کیا شاندار کرتب دکھایا- سبحان اللہ- ایسے ہاتھی تو عام ہیں جو پبلک میں چنگھاڑتے ہوئے نکلے اور لیبر ڈائرکٹریٹ میں پہنچ کر تقرریں کرنے لگے

سفید ہاتھی بھی بہت مشہور ہے لیکن آج کل سفید ہاتھی اپنے اوپر کالا رنگ پینٹ کرا کر گھومتے ہیں

Scroll to Top