معاشی مار پڑے تو ہم گھڑی بیچتے ہیں یا گھر کے برتن
سیاست دان جب پکڑے گئے اصول بیچتے پکڑے گئے
آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں لیکن ہمارا اپنا ذاتی خیال یہ ہے کہ آزادی اظہار رائے کی خرابیاں زیادہ ہیں اور اچھائیاں کم – وجہ یہ ہے کہ جس طرح ہم ہر سہولت اور رعایت کو اتنا زیادہ استعمال کر لیتے ہیں کہ ہمسائے کا حصہ تو الگ بعض دفعہ پورے شہر کا حصہ بھی ہمارے تصرف میں آجاتا ہے یہی حرکت ہم نے آزادی اظہار رائے کے ساتھ بھی کی پورے محلے کا پانی اپنے بنگلے میں ڈلوا لینا تو محلے والوں کے مقامات آہ و فغاں کا نقطہء آغاز ہے اس کے آگے امتحانات عشق میں روزگار- صحت- تعلیم- رہائش- کاروبار وغیرہ کے صفحات پر سے دس بیس افراد کا نام کھرچ کر اپنا نام لکھنے کے مرحلے آتے ہیں لیکن ان تمام مرحلوں سے آگے یہ حیرتناک مرحلہ بھی ہے کہ لوگ اپنی رائے کے علاوہ اپنے مخالفین کی رائے بھی اپنے نام سے چھپوا دیں- ہم تو اسے ملک کی خوش قسمتی کہیں گے کہ لوگوں کو دوسرے اہم کاموں سے فرصت نہیں ملتی کیونکہ وہ اپنی سوچ میں ہر مسئلے کے پہلو کا احاطہ کر سکیں ورنہ ہر شخص کم از کم پندرہ مختلف اور متضاد آراء کا اظہار کرنے کی اہلیت تو رکھتا ہی ہے سوچ کر رائے قائم کرنے اور اس کی بنیاد کسی اصول پر رکھنے کے روایت کو ہم لوگ قبیح سمجھتے ہیں
(خدا جانے کیوں لفظ ‘روایت’ کے صوتی اثرات سے ہمارے ذہن مین چکی والے دنبے کی تصویر ابھر اتی ہے جس کے ذبیحے کو انتہائی مرغوب سمجھا جاتا ہے اس طرح آراء کا اجتماع منافقین کی ایک ایسی صورتحال کو جنم دیتا ہے جس میں سر پھٹنے کا عمل باعث نجات درد سر ہوتا ہے دوسری خرابی جو براہ راست آزادی اظہار کی زیادتی سے پیدا ہوئی ہے وہ یہ کہ ماہر حیوانیات فٹشے مافوق الفطرت انسان کے بارے میں لیکچر دیتے ہیں اور مضامین لکھتے ہیں علامہ اقبال پر تو قوالوں تک نے ریسرچ کی ہے حالانکہ ان دونوں کی فیلڈ قطعی مختلف ہے
نظریہ پاکستان کے بارے میں وہ سب لوگ لکھ رہے ہیں جنہیں پچھلے سال یونیورسٹی سے معاشیات میں ڈگری ملی ہے خیر ہم ایسے لوگوں سے زیادہ نالاں نہیں ہیں کہ خاصی پریکٹس کے بعد ایسے لیکچر یا تحریروں سے بچ نکلنے کا فن ہمیں آگیا ہے لیکن سیاسی خبروں سے تو ہم بچ کر نہیں نکل سکتے بری عادتیں جب پڑ جائیں تو مشکل سے چھوٹتی ہیں سو اگر ہم سیاسی خبریں نہ پڑیں تو نشہ ٹوٹنے لگتا ہے لیکن جب پڑھ لیتے ہیں تو نشہ ہرن ہو جاتا ہے
ہمیں یاد ہے کہ پیر صاحب نے فرمایا تھا کہ جی ایچ کیو سے میرا براہ راست رابطہ ہے اب وہ فرماتے ہیں کہ میں ایسی حکومت کی حمایت کیسے کر سکتا ہوں پہلے پیر صاحب نے فرمایا تاکہ انتخابات کا کوئی امکان نہیں پھر فرمایا کہ حکومت مجبور ہو گئی ہے انتخاب کرانے پہ اور ہمیں جدوجہد کی کیا ضرورت نہیں بظاہر ہے اس کا مطلب یہ تھا کہ جلدی انتخابات ہوں گے پھر فرمایا کہ انتخابات 1992ء میں ہوں گے آزادی اظہار سے فائدہ اٹھانے کی ایسی انفرادی مثالیں بہت کم ملیں گی
بعض فقیدالمثال جوڑے بھی اس آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں مثلا اپنے خان عبدالولی خان اور بیگم نسیم ولی خان پہلے بے انتہا جمہوری بیان دیتے تھے پھر ایکاایکی فوجی حکومت کے حق میں بیان دے بیٹھے اور پھر سنائیں کہ آج کل پھر جمہوریت کے حق میں بیان دے رہے ہیں پھر دوسرے ایئر مارشل اصغر خان اور ان کے بیگم جمہوریت کی دہائی دیتے دیتے فوج کو دعوت دے دی اور جب نظر بند ہو گئے تو بیگم غریب پھر شوہر کے نام پہ جمہوریت کی دہائ دینے لگیں ان لوگوں کے بارے میں تو ہمیں یقین ہے کہ جس دن عوام کے حافظے سے واسطہ پڑ گیا ٹھیک ہو جائیں گے لیکن سابقہ جماعت اسلامی کی عادتیں تو ایسی بگڑی ہیں کہ انہیں سدھارنے کے امید شیطان کو جنت میں لے جانے کے امید ہے نہ یہ پوری ہو نہ وہ پوری ہو مثلا” اس جماعت کا ایک سنہرا اصول یہ ہے کہ ہر مسئلے پہ دو رائیں رکھی جائیں ایک رائے پاکستان کے خلاف دوسرے رائے پاکستان کے حق میں-(بعض جماعتوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا قیام مولانا مودودی کی کوششوں کا نتیجہ تھا) ایک رائے ہم جمہوریت کے حق میں، دوسری آمریت کے حق میں- ایک رائے عورتوں کے خلاف دوسرے رائے فاطمہ جناح کے حق میں- ایک رائے فحاشی کی مہم کے حق میں، دو سے فلسطین کے حق میں- ایک رائے اسلام کے حق میں اور دوسری صحابہء کرام کے خلاف- اس خالص مومنانہ منافقت سے جماعت اسلامی کا تو کیا بگڑتا البتہ ڈاکٹر اسرار احمد خوامخواہ مارے گئے اب سنائیں کہ پنجاب والوں نے اپنے دو رائیں الگ کر لیں اور کراچی والوں نے دو الگ لہذا جھگڑا ہو گیا دیکھیں دو رائیں کس کی جیتیں گی
یہ جو ہم نے کہا ہے کہ جماعت کا کیا بگڑتا تو اس کی وجہ جماعت اسلامی کا اپنے ووٹروں کا حساب لگانے کا طریقہ ہے جو کچھ یوں ھیکہ 70ء کے انتخابات میں جماعت کو اشاریہ صفر صفر ایک پانچ (0015.) فیصد افراد نے ووٹ دیے اس کے بعد کے انتخابات میں پانچ فیصد ووٹ پڑے لہذا جماعت کے حق میں 20 فیصد ووٹ پڑے اسی رفتار سے سے تو ایک دو انتخابات میں بقیہ 80 فیصد ووٹ بھی مل جائیں گے رہی یہ بات کہ سیٹیں ہمیشہ چار ہی رہیں گی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مومنین کی تعداد مسلمانوں کے مقابلے میں صالحین کی تعداد غیر صالحین کے مقابلے میں ہمیشہ کم رہتی ہے ہمیں خدشہ یہ ہے کہ اگر یہی رفتار رہی تو کہیں مومنین اور صالحین ایسے عنقا نہ ہو جائیں کہ وزارت کے لیے بھی دستیاب نہ ہوں
ہم تو حیران ہیں کہ اگر اتنی محدود آزادیء اظہار رائے میں لوگ رائے کو کپڑوں کی طرح تبدیل کرتے ہیں تو مکمل آزادی میں رائے تبدیل کرنے کی رفتار کیا ہوگی یہ بھی ہماری کم علمی ہے اس طرح رائے تبدیل کرنے کی کوئی وجہ بھی سمجھ میں نہیں آتی اس سے اچھا ہے کہ کوئی رائے نہ رکھیں- کم از کم عوام کو گڑبڑانے کے گناہ سے تو محفوظ رکھیں گے سیاست بن پالیسی، طریقہ کار، نقطہء نظر سب تبدیل ہوتا ہے تو ہم پہلے اپنی گھڑی بیچتے ہیں اور آخر میں گھر کے برتن بیچ دیتے ہیں لیکن بھائی کو نہیں بیچتے- بچوں کو نہیں بیچتے- اصول نہیں بیچتے- ہمیں تو لگتا ہے کہ ہمارے سیاستدان ہم سے بھی زیادہ غریب ہیں کہ زندہ رہنے کے لیے ہمیشہ اصول ہی فروخت کرتے پکڑے گئے گھر کے برتن ہمارے بکوا دیے
مشکل یہ ہے کہ ہمارے ہاں چیک اینڈ بیلنس کا کوئی طریقہ نہیں ہے کبھی کبھی انتخابات ہو جاتے ہیں تو عوام ان لوگوں کو جھاڑ پونچ کر کھونٹی پر ٹانگ دیتے ہیں پھر کوئی آکر انہیں چابی دے دیتا ہے اگر کہیں انتخابات کا عمل مسلسل ہوتا تو ہم یہ سارا مال اونے پونے داموں بیچ کر چین سے بیٹھے ہوتے
ڈبویا ان کے ہونے نے، نہ ہوتے یہ تو کیا ہوتا





