اسٹیل ملز میں استانیوں کا حشر

تحریر – شاہد رضوی

نیا دور ہے نیا زمانہ ہے اور اسٹیل ملز کی نئی انتظامیہ جو جنیٹک انجینیئرنگ کی فاش غلطی کی بناء پر پیدا ہوئی ہے اور اس انتظامیہ کی محیر القول حیرت انگیز اور عجیب العجائب پالیسیاں ہیں جو سو فیصد نئ ہیں پچھلی انتظامیہ ملازمین کے ویلفیئر کو اپنی ذمہ داری سمجھتی تھی یہ انتظامیہ اپنی ویلفیئر کو ملازمین کی ذمہ داری بتاتی ہے کچھ ہی دن جاتے ہیں کہ تمام ملازمین کی ایک دن کی تنخواہ کاٹ کر ہر ماہ انتظامیہ کے ویلفیئر فنڈ میں جمع ہوا کرے گی 

بچت کا شوق اسقدر ہے کہ 14 اگست کا جلسہ منسوخ کر دیا کہ اسکول کے بچوں کو مٹھائی بانٹنا پڑے گی بجٹ نہیں ہے پیسہ نہیں ہے- لیکن نئی گاڑیاں تو بہرحال مجبورا” خریدنا پڑتی ہیں سنا ہے انڈیکسیشن میں ہاؤس رینٹ اور کنوینس پر جو اضافہ ہونا چاہیے تھا وہ بھی انتظامیہ نے ملازمین کو دینے کے بجائے اپنی بچت میں شامل کر لیا اور لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ جو ایک خاتون ای ڈی پی کی نصف سربراہ ہیں یہ ان کی غلطی ہے اسے کہتے ہیں کرے مونچھوں والا اور پکڑی جائے بغیر داڑھی مونچھ والی

سنا ہے کہ انتظامیہ نے مطالبہ کیا ہے کہ میڈیکل سہولتوں کو بند کیا جائے اور یونین نے فورا” معاملات طے کر کے انتظامیہ کا مطالبہ منظور کر لیا اور لوگوں کو بتایا کہ انتظامیہ کہتی ہے کہ پانچ ہزار آدمی نکالنے دو یا میڈیکل سہولتیں ختم کرنے دو یعنی یا تو خود زہر کھا لو ورنہ ہم تمہیں پھانسی دے دیتے ہیں سو یونین نے دوسری بات منظور کر لی- تاکہ پہلا مطالبہ اپنے آپ پورا ہو جائے میڈیکل سہولتیں ختم ہونے سے سال میں بہت ڈھیٹ ہوئے تب بھی پانچ ہزار آدمی تو مر ہی جائیں گے اس امید پہ یونین نےپانچ ہزار متعفقین کی فہرست ابھی سے تیار کر لی ہے جنہیں ان کی جگہ رکھوائیں گے

وزیراعظم جونیجو نے صد فیصد تعلیم کا منصوبہ بنایا اسٹیل ملز کی انتظامیہ نے صد فی صد بڑے آدمیوں کے بچوں کی تعلیم کا انتظام کر دیا کیڈٹ کالج- گرامر اسکول اور مس دردانہ بٹ کا بیکن ہاؤس ہے بیچارے کلرک فٹر اور چپراسی وغیرہ تو نہ تو وہ صد فی صد میں آتے ہیں نہ تعلیم کی حد میں- پچھلی انتظامیہ نے کمپنی کی مشہوری کے لیے تیس چالیس والنٹیئر ٹیچرز رکھنی تھی یہ خواتین اس یقین دہانی پر کام کرتی رہیں کہ مستقل ہو جائیں گیں، اب ایک سال بعد معلوم ہوا کہ والنٹیئر مستقل ہو تب والنٹیئر رہتا ہے نہ اسے ملازمت مل سکتی ہے نہ تنخواہ یا اعزازیہ  کہتے ہیں کہ اسکولوں میں ٹیچروں کی اتنی کمی ہے کہ والنٹیئر ٹیچر ڈائری/ ڈسپیچ کا کام کرنے میں ایک پیریڈ میں چار چار کلاس میں پڑھاتی ہیں ایک کلاس میں جغرافیہ کا سبق لکھنے کو دے آتی ہیں دوسری کلاس میں حساب کے سوال بورڈ پہ لکھ آتی ہیں تیسری کلاس میں انگریزی کے ہجے اور معنی یاد کرنے کو کہہ آتی ہیں اور چوتھی کلاس میں اردو کا سبق یاد کرنے کو کہہ دیتی ہیں پھر گھنٹوں سر پکڑے پھرتی ہیں کہ کس کلاس میں کیا کہا تھا

ان خواتین کو جو محنت کش ہیں تعلیم دیتی ہیں نہ کوئی پیسہ ملتا ہے نہ سہولت ملتی ہے- ملتی ہیں تو دھمکیاں ان خواتین کی بے بسی ہے کہ نکالے جانے کے ڈر سے خاموش ہیں ہر سادہ ورق جس سخن کشتہ سے خون ہے یہ سب محنتی اور ضرورت مند ہیں لیکن اس امید پہ کہ شاید آگے کچھ بات بن جائے یہ کہہ دیتی ہیں کہ ہم تو صرف پڑھانا چاہتے ہیں ضرورت مند نہیں ہے یہ تو ہم اور آپ ہی جانتے ہیں کہ اس طرح بات کہنے کے لیے دل میں کتنی ٹیسیں دبانی پڑتی ہیں ہم نے ایک مرتبہ انہیں اسکول سے نکلتے دیکھا تھا اور یہ سمجھے تھے کہ شاید کسی میت کو دفنا کر آرہی ہیں

پچھلی انتظامیہ بھی گو مخلص نہیں تھی ورنہ جس طرح وزیروں کی سفارشات پر اور چور دروازے سے بھرتی کی جا رہی تھی ان استانیوں کا تقرر بہت مشکل نہ ہوتا پھر بھی حق نواز اختر ان سب کو ایک ایک ہزار روپیہ بطور اعزازیہ دے گئے تھے سنا ہئے کہ یہ انتظامیہ بچت کے سلسلے میں وہ پیسہ واپس جمع کرنے کے احکام جاری کرنے والی ہے اور اس کے بدلے تسلی کا ایک خوبصورت خظ ان استانیوں کو دے گی اسٹیل ملز کے محکمہ تعلیم کی تجویز یہ معلوم ہوتی ہے کہ نئ بچت پالیسی کے تحت ان تمام اسکولوں کو بند کر دیا جائے فیسیں 24 سے 48 اور 48 سے 96 کر دی جائیں تاکہ لڑکے بھاگ جائیں- اسکول خالی ہوئے تو استانیوں کا کیا کام- بچت ہی بچت- جہالت ہی جہالت اور پھر یہ عمارتیں ٹھیکے پر دے دی جائیں

مزید بچت اسٹیل ملز کے تعلیمی شعبہ کا سربراہ یعنی مشیر تعلیم ایک ایسے ضعیف الامر پروفیسر کو مقرر کیا ہوا ہے جو عزرائیل کی چھٹی پر ہونے کا فائدہ اٹھا رہے ہیں انہیں تاریخ قبل از اسلام سے خاصا شغف ہے اور یہ انتظامیہ کو مشورہ دے رہے ہیں کہ ان والنٹیئر خواتین سے وہ سلوک کیا جائے جو عرب اپنے لڑکیوں سے کرتے تھے یعنی زندہ دفن کر دینا

Scroll to Top