نگراں وزیراعظم کی مشکل
تحریر- شاہد رضوی
ہمیں اندازہ نہیں ہو سکا کہ اتفاق محض تھا یا کسی کی شرارت کہ غلام مصطفی جتوئی صاحب کی ٹی وی پر تقریر ایک مزاحیہ خاکوں کے پروگرام تکلف برطرف کے وقت میں دکھائی گئی اور جتوئی صاحب کی تقریر سے پہلے ان کی تقریر کے مرکزی خیال کو فلم پنشنر کے اشتہار کی شکل میں دکھایا گیا پنشنر کے ہیرو نے بس یہی کہا تھا کہ عدالت میری ہے اور انصاف میں کروں گا ہماری رائے میں یہ بڑی غلط بات ہوئی ہے اس طرح جتوئی صاحب کا امیج خراب ہوا ہے اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے اور جس کسی کا جرم ثابت ہو اسے سزا دینی چاہیے
مگر ایک خدشہ ہے عدالتی تحقیقات کہیں اتنی طویل نہ ہو جائے کہ وزارتیں عظمی کی نگرانی کی مدت ختم ہو جائے عارضی ملازمت خواہ وہ آدمی خود حاصل کرے خواہ کوئی ٹھیکیدار دیدے ہمیشہ ناقابل اعتبار ہوتی ہے یہ زیادہ بہتر ہے کہ کسی اسپیشل ٹریبونل کا عام مقصد یہی ہوتا ہے کہ تحقیقات بعد میں ہوتی رہیں گی فیصلہ پہلے ہو جاتا ہے اسپیشل ٹریبونل سے کم از کم یہ تو یقینی ہے کہ فیصلہ وزارت عظمی کی نگرانی کی مدت میں ہی ہو جائے گا کہنے کو یہ مدت تین مہینے ہیں لیکن جناب یہ تین مہینے بھی کس نے دیکھے ہیں جین ڈکسن کی کسی پیشن گوئی میں بھی نہیں تھا کہ جتوئی صاحب تین مہینے کے لیے عارضی وزیراعظم بن جائیں گے بن گئے تو سب سے پہلے اپنوں کو ناراض کر لیا آئی جے آئی والے خفا ہیں کہ کھر اور جام صادق کو کیوں لے لیا کھر خفا ہیں کہ لوگوں کو یہ ہمت کیسے پڑی کہ وہ کھر صاحب کے بارے میں ایسا کہیں
جتوئی صاحب کی مشکل یہ ہے کہ وزارت عظمی کی کرسی کے چار پائے ہیں اور گھیرے میں اسے چھ فرشتے لیۓ ہوئے ہیں کھر صاحب، نواز شریف، جونیجو اور اکبر بگٹی، صدر اور فوج اپنی جگہ، دوسری بڑی مشکل یہ ہے کہ جتوئی صاحب کا اپنا تو کوئی حلقہ ہے نہیں مانگے تانگے پر بسر کر رہے تھے لیکن اب کھر صاحب کہتے ہیں کہ وہ کوٹ ادو نہیں جائیں گے وجہ یہ کہ انہیں بالکل فرصت نہیں ہے کسی نے انہیں بتا دیا ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے اصل وارث ہیں اور اس لیے اب وہ اصل پیپلز پارٹی بنا رہے ہیں جس میں وہ سب لوگ شامل ہوں گے جو اب تک پیپلز پارٹی میں نہیں تھے ایسی ہی ایک اصل پیپلز پارٹی مولانا کوثر نیازی نے بنائی تھی بالا بہرحال کھر صاحب کا کہنا ہے کہ وہ کوٹ ادو نہیں جائیں گے یہ بتانا تھا کہ جتوئی صاحب اب کوٹ ادو سے کوئی امید نہ رکھیں جتوئی صاحب نے اس اشارے کو فورا” سمجھ لیا اور آئندہ قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کر کے وزیراعظم بننے والے کے لیے دعائے خیر کی- اس دعائے خیر میں ایک عجب اداسی رچی ہوئی تھی کسی ایسے عاشق کی طرح جسے اس کی محبوبہ نے مستقل فارغ الخطی لکھ دی ہو
سنا تھا کہ لیہ میں کچھ انتظام ہو گیا ہے لیکن بعد میں غالبا” وہاں سے بھی تردید آگئی حالانکہ اگلی قومی اسمبلی کے سلسلے میں ابھی کچھ کہنا تو الیکشن کمیشن کے لیے بھی مشکل ہے لیکن اس بات پر سب متفق نظر ارہے ہیں کہ اگر جتوئ صاحب کو کوئی حلقہ نہ ملا تو کم سے کم ایک امیدوار خواہ اس سے خطرہ ایک فیصد ہی کیوں نہ ہو وزارت عظمی کا کم ہو جائے گا لہذا پنجاب میں کوئی سیٹ خالی نہیں- لے دے کے نوابزادہ نصراللہ خان سے کچھ امید تھی سو اب وہ دوبارہ صدر کے عہدہ کے لیے کوشیش کریں گے
سیدہ عابدہ حسین نے اگر ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے اپنے اسٹینڈ فارم کو کافی ترقی دے لی ہے اور وہ اس میں فل ٹائم مشغول ہو سکیں اور انہیں اس بات کا یقین دلا دیا جائے کہ پنجاب کو 62 فیصد حصہ لازمی ملے گا تو ممکن ہے کہ وہ اپنی سیٹ جتوئ صاحب کو دے دیں گی گو خواتین عام طور پہ رحم دل ہوتی ہیں اور کسی کو روتا دیکھ کر پگھل جاتی ہیں لیکن اتنی بڑی قربانی کی توقع ہمیں کم ہی ہے سرحد میں بھی ابھی تک ایسی اطلاع نہیں ہے کہ ولی خان یا بیگم ولی خان ریٹائرڈ ہو رہے ہیں لہذا وہاں سے بھی جتوئی صاحب کوئی امید نہیں رکھ سکتے بلوچستان والے اپنوں کو ہی برداشت نہیں کر سکتے تو انہیں کہاں رکھیں گے سندھ تو ویسے تو جتوئ صاحب کا گھر ہے لیکن اندرون سندھ لوگ انھیں مہمان بنا کر رکھنے کو تیار ہیں نمائندہ بنانے سے انکاری ہیں اور کراچی شہر کا یہ خیال ہے کہ ایم کیو ایم والوں نے بھائی غفور کو ہی خیمے سے باہر نکال دیا ہے- انکار آسماں کو ہے راضی زمیں نہیں
بہرحال ہمیں نگراں وزیراعظم سے(جسے ٹی وی والے نگراں کے بغیر وزیراعظم کہتے ہیں) بہت ہمدردی ہے یوں تو اللہ کی قدرت ہے کہ مردوں کو جلا دے اور اس کی مرضی ہے اگر اپنے خزانہ غیب سے ایک سیٹ جتوئ صاحب کو بھی عنایت کر دیں لیکن آثار ابھی تک امید افزا نہیں ہیں ہم بھی خلوص دل سے دعا کرتے ہیں اور آپ بھی دعا کریں کہ جتوئی صاحب کی مشکل آسان ہو یعنی یا تو جتوئی صاحب مستقل وزیراعظم ہوں یا بالکل نہ ہوں یہ جو کیفیت ہے کہ نہ ادھر نہ ادھر یہ ٹھیک نہیں ہے اچھے خاصے قائد حزب اختلاف جانے کس کی مداخلت بےجا نے نگراں وزیراعظم بنا کر بے آسرا کر دیا حزب اختلاف کا آسرا تھا کہ اس کے سرتال ہی مختلف ہو گئے آئیے ایک دعا اور مانگ لیں کہ جمہوریت کے سلسلے میں خدا کرے مداخلت بیجا بند ہو جائے





