برقعہ پوش الیون بمقابلہ خواتین کمبائنڈ
تحریر – شاہد رضوی
بات کچھ اتنی خوفناک نہ تھی کہ ڈاکٹر اسرار احمد سے پیشتر بھی بہت سے مولوی کہتے رہے ہیں بلکہ بعض عالموں کی رائے میں تو خواتین و مویشیوں کا رتبہ ایک ہے اور خواتین کو بھی مویشیوں کی طرح باڑے میں بند کیا جا سکتا ہے ڈاکٹر اسرار احمد نے تو صرف گھر میں بند کرنے کو کہا تھا لیکن خواتین کمبائنڈ نے اس کا سخت نوٹس لیا اور ٹی وی سے ڈاکٹر اسرار احمد کی اضافی آمدنی خواہ مخواہ بند کروا دی اور یہ نتیجہ تھا اس مظاہرے کا جو انجمن جمہوریت پسند خواتین سے لے کر بیوروکریٹ خواتین تک نے ٹی وی اسٹیشن پر کیا اس ہنگامہ کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سارا جھگڑا ‘الہدی’ میں جو خواتین کی شرکت کے مسئلے پر ہوا الہدی میں جو خواتین شرکت کرنا چاہتی تھیں وہ یقینا دینی جذبہ رکھتی ہیں ورنہ بجائے الہدی کے وہ ایک اللسان العربی کے پروگرام میں شرکت کی خواہش کا اظہار کرتیں ہیں جس کے ایک استاد اپنی خوبصورتی اور نازک چشمے اور دوسرے استاد حلق کی گہرائی سے عجیب و غریب آوازیں نکالنے کی وجہ سے مشہور ہیں ڈاکٹر اسرار احمد کو ایسی دیندار خواتین کی شرکت بھی گوارا نہ ہوئی کیونکہ خواتین نہ صرف دیندار تھی بلکہ بے برقعہ بھی تھیں
(پس ثابت ہوا کہ دیندار خواتین بے برقعہ ہوتی ہیں)
خیر یہ بات ہو رہی تھی ڈاکٹر خواتین کے مظاہرے کی ڈاکٹر اسرار احمد کو اگر یہ خبر ہوتی کہ خواتین اپنے طاقت کے اتنے معمولی مظاہرے سے انہیں پارٹ ٹائم جاب سے نکلوا سکتی ہیں تو وہ وفاقی کونسل میں اپنے نوکری کی خیر مناتے ہوئے غالبا” احتیاط ملحوظ رکھکر بات کرتے ویسے سنا ہے کہ وفاقی کونسل میں ڈاکٹر اسرار احمد کی نشست خواتین کی نشست کے ساتھ ہے خدا جانے الہدی میں آ کر وہ خواتین سے کیوں الرجک ہو جاتے ہیں
خواتین کے مظاہرے کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ ڈاکٹر اسرار احمد کو اپنے دفاع میں انتہائی حد تک جانا پڑا اور یہ کہنا پڑا کہ خواتین کا ٹیلی فون پہ بات کرنا بھی شرع کے خلاف ہے ظاہر ہے یہ بات کوئی مولوی ہی کہہ سکتا ہے ساتھ ہی ساتھ ایک جماعت نے کچھ برقہ پوش خواتین کی ایک ٹیم فراہم کی جس نے ٹی وی اسٹیشن پر ایک خاموش مظاہرے کی ناکام کوشش کی ناکام اس لیے کہ تصویر میں بھی وہ 11 خواتین ہاتھ ہلا ہلا کر ایک دوسرے سے باتیں کرتی نظر آرہی تھیں یوں بھی یہ تاریخی ناممکنات میں سے ہے کہ 11 خواتین ایک جگہ خاموش کھڑی ہوں نو سیارے سورج سے ایک سیدھ میں پانچ سو سال میں ایک مرتبہ آتے ہیں لیکن ایسا واقعہ کہ دو خواتین کو کسی نے ایک جگہ خاموش دیکھا ہؤ پانچ سو سال میں بھی ایک دفعہ نہیں ہوا
اس برقعہ 11 کی نظریاتی قیادت ڈاکٹر اسرار احمد کر رہے تھے خواتین کو مطالبہ یہ تھا کہ انہیں گھروں میں نظر بند کر دیا جائے اور یہ مطالبہ سڑک پہ کر رہی تھیں بہرحال ہمیں تو یہ تعجب ہے کہ کراچی کی 60 لاکھ کی قلیل آبادی میں یہ برقعہ پوش ٹیم فراہم کہاں سے ہو گئی یہ تو ہم نے بھی سنا ہے کہ اسٹج شو کے لیے برقعے کرائے پہ مل جاتے ہیں لیکن خواتین کے حصول کارے دارد
برقعہ 11 کا چیلنج خواتین کمبائنڈ نے بلاجھجک قبول کر لیا اور خواتین کمبائنڈ کے حق میں اتنے بیانات آۓ کہ روزانہ آدھا اخبار خواتین کے قبضے میں چلا جاتا تھا ہم نے بڑی تحقیق اور جستجو کے بعد بیانات اور خبروں میں سے اہم نکات تلاش کۓ ہیں جو آپ کے ملاحظے کے لیے حاضر ہیں
نمبر ایک- خواتین کو گھر کے چار دیواری میں بند کرنے والے ذہنی طور پر قیدی ہیں
نمبر دو- ملک کی آدھی آبادی کو معطل کرنے کی حمایت کوئی محب وطن نہیں کر سکتا
نمبر تین- برقعے کا استعمال اب صرف اغوا شدہ لڑکیوں یا اسمگلنگ کے مال کو چھپانے کے لیے کیا جاتا ہے
نمبر چار- خواتین معاشرے کا ذمہ دار حصہ ہیں جرائم پیشہ نہیں ہیں
نمبر پانچ – کام کرنے والی خواتین کے بغیر دیہی معاشرہ ایک دن نہیں چل سکتا نکات تو اور بھی بہت تھے لیکن یہی کافی ہیں
برقعہ 11 نے تلملا کے ایک جلوس برقعہ پوشوں کے محلہ لیات آباد میں برامد کیا جس کے آگے پولیس والے ہٹو بچو کا شور مچاتے چل رہے تھے ہماری حیرت کی وجہ وہی ایک – 15 سال لیاقت آباد میں رہنے کے باوجود ایک بھی خیمہ پوش خاتون نظر نہیں آئی لیاقت آباد مارکیٹ میں سارا دن گھومیے ہر گھر کی خواتین نظر آئیں گے صرف وہ خاتون نظر نہیں آۓ گی جس کا تذکرہ ڈاکٹر اسرار احمد نے کیا ہے لے دے کے ایک ہی صورت رہ جاتی ہے کہ جلوس ایک جماعت کے ان کارکنوں پہ مشتمل تھا جن کے مونچھیں نقاب سے نظر نہ آئیں اور پیروں میں سینڈلیں فٹ ہو جائیں تیسری جنس کے جلوس تو ایک جماعت نے پہلے بھی نکلوائے تھے
بہت سے لوگوں کا جن کی جلد بہت حساس ہے، یہ خیال تھا کہ یہ شوشہ حکومت نے چھوڑا ہے تاکہ جمہوریت کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹ جائے لیکن حکومت نے فورا” ہی ایسی افواہوں کی تردید کر دی
ہم نے سوچا کہ کچھ اکابرین کے آراء بطور انٹرویو بھی جمع کر لی جائیں- ایک معمر خاتون رہنما کو جا کے سلام کیا- سوال کیا- آپ کا پردے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ بولیں “بیٹا بدن کا پردہ تو لباس سے ہو جاتا ہے جو لباس نہ پہنتا ہو وہ برقعہ پہن لے” دوسری رہنما بولیں “پردہ تو بھائی آنکھ کی شرم کا نام ہے سو شرم و حیا ہم میں پہلے ہی بہت کافی ہے برقعہ کوئی اعمال کا سرٹیفیکیٹ تھوڑی ہے” تیسری رہنما نے فرمایا “جسے اپنے اوپر اعتماد نہ ہو وہ برقعے تو برقعے لحاف اوڑھ لے تب بھی ڈرتا رہے گا”
ایک مولانا سے یہ سوال عرض کیا بولے “آہستہ بولو بیگم نے سن لیا تو فضیحتہ ہو جائے گا دو دن ہوٹل میں کھانا پڑے گا”
ایک محکمے کے بڑے افسر نے سے یہی سوال کیا کہنے لگے “پردہ کا تو میں بھی بہت قائل ہوں اس لیے کہ ایک بیوی میری پردہ کرتی ہے دوسری البتہ ضرورتا” پردہ نہیں کرتی” میں نے پوچھا “آپ ڈرتے کس سے ہیں؟” ایک دم بولے ” دونوں سے” بعد میں جھینپنا تو تھا ہی- ایک سبزی فروش سے پوچھا “تمہارا پردے کے بارے میں کیا خیال ہے” کہنے لگا “جی بہت اچھا خیال ہے ضرور ہونا چاہیۓ” میں نے پوچھا ” تمہاری بیوی پردہ کرتی ہے؟ “سسری پردہ کرے گی تو شام کو گھر میں کھانا بھی نہ ملے گا وہ دیکھو جی سامنے گوشت والے سے کھڑی گوشت لے رہی ہے” ایک بابو جی سے بھی پوچھ لیا کہنے لگے “پردہ وہ عورت کرے جس کے نہ آگے کوئی ہو نہ پیچھے- بال بچوں والی کیسے پردے کا جھنجھٹ پالے گی”
ایک مزدور سے بھی پوچھ لیا کہنے لگا “جی پہلے میری بیوی سخت پردہ کرتی تھی مگر جب میں بیمار پڑا اور نوکری بھی گئی تو اس نے کمر بند بن کر اور لفافے بنا کر بازار میں بیچے میری دوا کی اور گھر چلایا ورنہ میں اور وہ دونوں خاموش کالونی میں ایک دوسرے پہ فاتحہ پڑھتے ہوتے- میں تو جی اس کی بے پردگی کو سلام کرتا ہوں
اور اب آخری رائے میری بیوی کی سن لیجئے کہ سب اکابرین سے زیادہ معتبر ہے —– نان سٹاپ تقریر ایک گھنٹے سے جاری ہے اور میں کسی حتمی رائے معلوم کرنے سے قاصر ہوں لہذا خدا حافظ





