کچھ غزلیں شاعر کی آواز میں
0:00
/
0:00
نہ دل کی دیت کوئ نہ کوئ جنوں کا صلہ
دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا
0:00
/
0:00
اے رہروان مقتل جاں یہ بات سمجھنا لازم ہے
دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا
0:00
/
0:00
سونا رستہ دور سویرا دۓ جلاۓ رکھنا
دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا
0:00
/
0:00
دروازہ کھلا رکھنا
دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا
0:00
/
0:00
حریم حسن میں دل کا وقار باقی رہے
دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا
0:00
/
0:00
آج پھر اپنے دکھوں سے میں پشیمان پھرا
0:00
/
0:00
بنجاروں سے پیار کروگے آخر میں پچھتاؤگے
0:00
/
0:00
دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا
دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا
0:00
/
0:00
نہ قتیل درد وفا کوئ نہ نثار عارض و لب کوئ
دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا
0:00
/
0:00
کیا جانے شب کب آئ کدھر کو سحر گئ
دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا
0:00
/
0:00
تیری شہرت بھی بہت اور میں رسوا بھی بہت
دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا
0:00
/
0:00
دل وحشی کو صدا دیتے ہیں جانے والے
دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا
0:00
/
0:00
میرا بچہ
دل کی اداسیوں سے کوئ باخبر نہ تھا