ٹیلیفون

تحریر   شاہد رضوی  

(اس مضمون میں تمام نام فرضی ہیں سوائے میرے نام کے جو صاحب میرے نام کو فرضی سمجھیں گے نتائج کے ذمہ دار خود ہوں گے)

ٹیلی فون پر لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم ٹیلیفون سے بہت پریشان ہیں اور دل کا غبار نکالنا چاہتے ہیں اور پریشان ہونے کی وجہ وہ تمام خرابیاں ہیں جو کسی برہمن نے اس کے زائچہ پیدائش میں ڈال دی تھی اور آج تک چلی آرہی ہیں مثلا یہ خرابی کہ نہ تو یہ کسی غلط بات پہ خود چونکتا ہے اور نہ منع کرتا ہے نہ لائن کٹ آف کرتا ہے بلکہ غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاموش رہتا ہے اس صفت کو مروت بھی کہتے ہیں اور اس مروت نے لوگوں میں اتنی غلط عادتیں پختہ کر دی ہیں جن کا احاطہ اس مضمون میں نہیں ہو سکتا

ان غلط عادتوں کے بارے میں ہمارے تجربے نے اب کشف کی صورت اختیار کر لی ہے یعنی جیسے ہی صدیقی صاحب ہمارے کمرے میں داخل ہوئے ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ میمن صاحب کو (جوان کے پڑوسی ہیں کوک اوون میں فون کر کے اپنے محلے کے بارے میں تمام واقعات کی تفصیل ان سے معلوم کریں گے جس میں عبداللہ قصائی کا کسی گاہک سے خراب گوشت دینے پر جھگڑا، پانی کی آمد ورفت کے اوقات کار، علاقہ کے یتیم خانہ کی گزشتہ ہفتے کی آمدنی وغیرہ کی تفصیلات ہوں گی اور آدھے گھنٹہ کے بعد فون بند کرتے وقت انہیں یاد آئے گا کہ میمن صاحب کے بچوں کی طبیعت تو پوچھی ہی نہیں واضح رہے کہ دونوں صاحب ایک ہی وین میں دفترآتے ہیں

ایک اور صا حب ہیں اتنی تیزی سے آتے ہیں کہ جو غلطی سے ان سے ٹکرا جائے بے ہوش ہو جاتا ہے آتے ہی فون کو تیزی سے اپنی طرف کھینچیں گے جس کے نتیجے میں فون اور ان کے بیچ میں جو اشیاء حائل ہوں وہ سب نیچے زمین پر گر جائیں گی انتہائی تیزی سے نمبر ڈائل کریں گے اور نہایت اطمینان سے 22 منٹ تک بات کریں گے جو شروع ہوگی کیمیکل بلاک نمبر 2 سے اور کچھ پردہ نشینوں کے حوالے دیتے ہوئے طارق روڈ پر ختم ہو گی بعض حضرات عشق کے پیغام رسانی کا وسیلہ بھی فون کو بناتے ہیں عشق نہ جانے ذات تو بھلا دفتری اوقات کیا جانے گا پھر یہ کہ احتیاط کی بنا پر بات چیت میں مونث محبوبہ کے لیے مذکر کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے ابلاغ کی یہ دقت گفتگو کو طویل تر بناتی رہتی ہے ہر عشق کم از کم دو گھنٹے طویل ہوتا ہے

ایک صاحب روزانہ گھر فون کرتے ہیں تاکہ بیوی کی آواز میں کسی نہ کسی کی خیریت معلوم ہو جائے دفتر کی ضروری کالیں کرنے کے لئے جس ترکیب سے ہم فون کو آزاد کراتے ہیں اس کا تذکرہ ٹھیک نہیں لوگ خواہ مخواہ دشمن ہو جائیں گے ضروری کالیں کرتے وقت بھی بعض مرتبہ یہ پتہ نہیں چلتا کہ جوکھیو صاحب اسٹور میں رنگوں کے ڈبہ کے بارے میں معلوم کر رہے ہیں یا عظمت اللہ کے بچوں کی تعداد پوچھ رہے ہیں

آنے والی کالیں اس سے بھی عجیب ہوتی ہیں اکثر دونوں جانب سے ہیلو ہیلو کا کافی دیر تبادلہ ہونے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ غلط نمبر مل گیا تھا ٹیلیفون والوں نے یہ ہدایت جاری کی کہ ریسیور اٹھاتے ہی السلام علیکم کہا جائے لیکن یہ سلسلہ چلا نہیں کیونکہ خدا جانے کیوں بعض لوگ ٹیلفون پر السلام علیکم سنتے ہی وعلیکم السلام کہہ کر فون بند کر دیتے ہیں

خیر صاحب ایک فون آتا ہے “رضوی صاحب ہیں” عرض کیا “جی میں بول رہا ہوں” ارشاد ہوا ایک تازہ غزل ہوئی ہے ترنم سے سنا رہا ہوں، عرض ہے رضوی صاحب کی پروموشن کا مسئلہ ان صاحب کے پاس اٹکا ہوا ہے یا رضوی صاحب کے بھائی ان صاحب کے عملے میں شامل ہیں لہذا رضوی صاحب کے فرشتے بھی غزل سننے پر مجبور ہیں لوگوں کی جدت طبع نے خوشامد بذريعہ ٹیلیفون کے سلسلے میں لاتعداد نئے راستے ایجاد کیے ہیں اور مزید تحقیق جاری ہے کچھ حضرات ٹیلیفون سے اس لۓ بھی الرجک ہیں کہ اس کی گھنٹی ان کی دوپہر کی نیند غارت کر دیتی ہے

ٹیلی فون کی سب برائیاں ہی نہیں ہیں ایک فائدہ یہ ہے کہ اگر اپ کسی صحیح آدمی کو ڈانٹنا چاہیں تو نام بتائے بغیر ڈانٹ دیجیے نتائج کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے اگر کوئی افسر فون پر آپ کو ڈانٹنا چاہے تو اسے بتا دیجئے کہ وہ غلط آدمی کو ڈانٹ رہا ہے

ٹیلی فون کا مقصد وقت کی بچت ہے اور یہ مقصد ہم نے بخیر و خوبی حاصل کر لیا ہے یعنی اتنا وقت بچا لیا ہے جسے مجبورا ٹیلی فون پہ صرف کرنا پڑتا ہے

Scroll to Top